Ehsan Danish

(1914 - 22 March 1978 / Kandhla / India)

نظر فریبِ قضا کھا گئی تو کیا ہو گا - Poem by Ehsan Danish

نظر فریبِ قضا کھا گئی تو کیا ہو گا
حیات موت سے ٹکرا گئی تو کیا ہو گا

نئی سحر کے بہت لوگ منتظر ہیں مگر
نئی سحر بھی کجلا گئی تو کیا ہو گا

نہ رہنماؤں کی مجلس میں لے چلو مجھے
میں بے ادب ہوں، ہنسی آ گئی تو کیا ہو گا

غمِ حیات سے بے شک ہے خود کشی آسان
مگر جو موت بھی شرما گئی تو کیا ہو گا

شبابِ لالہ و گل کو پکارنے والو
خزاں سرِشت بہار آ گئی تو کیا ہو گا

یہ فکر کر کے اس آسودگی کے دھوکے میں
تیری خودی کو بھی موت آ گئی تو کیا ہوگا

خوشی چِھنی ہے تو غم کا بھی اعتماد نہ کر
جو روح غم سے بھی اکتا گئی تو کیا ہو گا


Comments about نظر فریبِ قضا کھا گئی تو کیا ہو گا by Ehsan Danish

There is no comment submitted by members..



Read this poem in other languages

This poem has not been translated into any other language yet.

I would like to translate this poem »

word flags

What do you think this poem is about?



Poem Submitted: Friday, April 13, 2012

Poem Edited: Friday, April 13, 2012


[Report Error]