Members Who Read Most Number Of Poems

Live Scores

Click here to see the rest of the list

(4 August 1944 / Sialkot)

What do you think this poem is about?

For Example: love, art, fashion, friendship and etc.

ایک دن

آخری چند دن دسمبر کے
ہر برس ہی گراں گُزرتے ہیں
کیسے کیسے گُماں گزرتے ہیں

رفتگاں کے بکھرتے سایوں کی
ایک محفل سی دل میں سجتی ہے
فون کی ڈائری کے صفحوں سے
کتنے نمبرپُکارتے ہیں مجھے
جن سے مربوط، بے نوا، گھنٹی
اب فقط میرے دل میں بجتی ہے

کس قدر پیارے پیارے ناموں پر
رینگتی بد نما لکیریں سی
میری آنکھوں میں پھیل جاتی ہیں
دوریاں ، دائرے بناتی ہیں
دھیان کی سیڑھیوں پہ کیا کیا عکس
مشعلیں درد کی جلاتے ہیں
نام جو کٹ گئے ہیں، اُن کے حرف
ایسے کاغذ پہ پھیل جاتے ہیں
حادثے کے مقام پر جیسے
خون کے سوکھتے نشانوں پر
چاک سے لائنیں لگاتے ہیں
پھر دسمبر کے آخری دن ہیں
ہر برس کی طرح سے اب کے بھی
ڈائری اک سوال کرتی ہے
'کیا خبر اس برس کے آخر تک
میرے ان بے چراغ صفحوں سے
کتنے ہی نام کٹ گئے ہوں گے
کتنے نمبر بکھر کے رستوں میں
گردِ ماضی سے اٹ گئے ہوں گے
خاک کی ڈھیریوں کے دامن میں
کتنے طوفاں سمٹ گئے ہوں گے
ہر دسمبر میں سوچتا ہوں میں
ایک دن اس طرح بھی ہونا ہے
رنگ کو روشنی میں کھونا ہے
اپنے اپنے گھروں میں رکھی ہوئی
ڈائری دوست دیکھتے ہوں گے
اُن کی آنکھوں کے خاکدانوں میں
ایک صحرا سا پھیلتا ہو گا
اور کچھ بے نشان صفحوں سے
نام میرا بھی کٹ گیا ہوگا!!

Submitted: Tuesday, April 10, 2012


Read this poem in other languages

This poem has not been translated into any other language yet.

I would like to translate this poem »

word flags

What do you think this poem is about?

Comments about this poem (Hum Aise Marg Talab Bhi Na The Muhabbat Mein by Amjad Islam Amjad )

Enter the verification code :

There is no comment submitted by members..
[Hata Bildir]