ہم سب اولادِ آدم ہیں
جنت سے آئے ہیں
جنت میں ہی جانا ہے
جنت ہی ہمارا ٹھکانہ ہے
اک جہدِ مسلسل کرنی ہے
اک سفرِ مسلسل کرنا ہے
محبوبِ رب کی اطاعت کر کے
رضائے رب کو پانا ہے
جنت سے آئے ہیں
جنت میں ہی جانا ہے
اک دن سب کو چھوڑ کر
چپ چاپ کفن کو اوڑھ کر
دُنیا سے رُخ موڑ کر
دارالجزا میں جانا ہے
جنت سے آۓ ہیں
جنت میں ہی جانا ہے
اے خاک خود کو جھنجوڑ کر
نفس اپنے پر غور کر
اس فانی کو چھوڑ کر
پھر اُس باقی میں جانا ہے
جنت سے آۓ ہیں
جنت میں ہی جانا ہے
اے خاک رب کا تو ذکر کر
اپنی آخرت کی فکر کر
کہ یہ زندگی اک سفر ہے
دُنیا مسافر خانہ ہے
جنت سے آۓ ہیں
جنت میں ہی جانا ہے
1 march 2020 5: 52 pm
Written by
Hafiza Ifra Javed Islaam
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem