Amjad Islam Amjad

(4 August 1944 / Sialkot)

ایک دن - Poem by Amjad Islam Amjad

آخری چند دن دسمبر کے
ہر برس ہی گراں گُزرتے ہیں
کیسے کیسے گُماں گزرتے ہیں

رفتگاں کے بکھرتے سایوں کی
ایک محفل سی دل میں سجتی ہے
فون کی ڈائری کے صفحوں سے
کتنے نمبرپُکارتے ہیں مجھے
جن سے مربوط، بے نوا، گھنٹی
اب فقط میرے دل میں بجتی ہے

کس قدر پیارے پیارے ناموں پر
رینگتی بد نما لکیریں سی
میری آنکھوں میں پھیل جاتی ہیں
دوریاں ، دائرے بناتی ہیں
دھیان کی سیڑھیوں پہ کیا کیا عکس
مشعلیں درد کی جلاتے ہیں
نام جو کٹ گئے ہیں، اُن کے حرف
ایسے کاغذ پہ پھیل جاتے ہیں
حادثے کے مقام پر جیسے
خون کے سوکھتے نشانوں پر
چاک سے لائنیں لگاتے ہیں
پھر دسمبر کے آخری دن ہیں
ہر برس کی طرح سے اب کے بھی
ڈائری اک سوال کرتی ہے
'کیا خبر اس برس کے آخر تک
میرے ان بے چراغ صفحوں سے
کتنے ہی نام کٹ گئے ہوں گے
کتنے نمبر بکھر کے رستوں میں
گردِ ماضی سے اٹ گئے ہوں گے
خاک کی ڈھیریوں کے دامن میں
کتنے طوفاں سمٹ گئے ہوں گے
ہر دسمبر میں سوچتا ہوں میں
ایک دن اس طرح بھی ہونا ہے
رنگ کو روشنی میں کھونا ہے
اپنے اپنے گھروں میں رکھی ہوئی
ڈائری دوست دیکھتے ہوں گے
اُن کی آنکھوں کے خاکدانوں میں
ایک صحرا سا پھیلتا ہو گا
اور کچھ بے نشان صفحوں سے
نام میرا بھی کٹ گیا ہوگا!!


Comments about ایک دن by Amjad Islam Amjad

There is no comment submitted by members..



Read this poem in other languages

This poem has not been translated into any other language yet.

I would like to translate this poem »

word flags

What do you think this poem is about?



Poem Submitted: Tuesday, April 10, 2012



Famous Poems

  1. The Road Not Taken
    Robert Frost
  2. Still I Rise
    Maya Angelou
  3. If You Forget Me
    Pablo Neruda
  4. Dreams
    Langston Hughes
  5. Annabel Lee
    Edgar Allan Poe
  6. If
    Rudyard Kipling
  7. Stopping By Woods On A Snowy Evening
    Robert Frost
  8. Do Not Stand At My Grave And Weep
    Mary Elizabeth Frye
  9. I Do Not Love You Except Because I Love You
    Pablo Neruda
  10. A Dream Within A Dream
    Edgar Allan Poe
[Report Error]