Fani Badayuni

(1879 - 1941 / Islamnagar, Uttar Pradesh / British India)

عشق نے دِل میں جگہ کی تو قضا بھی آئی - Poem by Fani Badayuni

عشق نے دِل میں جگہ کی تو قضا بھی آئی

عشق نے دِل میں جگہ کی تو قضا بھی آئی
!! درد دنیا میں جب آیا تو دوا بھی آئی

دل کی ہستی سے کیا عشق نے آگاہ مجھے
! دل جب آیا تو دھڑکنے کی صدا بھی آئی

صدقے اُتاریں گے ، اسیرانِ قفس چھوٹے ہیں
!! بجلیاں لے کے نشیمن پہ گھٹا بھی آئی

آپ سوچا ہی کئے ، اُس سے ملوں یا نہ ملوں
!! موت مشتاق کو مٹّی میں مِلا بھی آئی

لو ! مسیحا نے بھی ، اللّھ نے بھی یاد کِیا
! آج بیمار کو ہچکی بھی ، قضا بھی آئی

دیکھ یہ جادہَ ہستی ہے ، سنبھل کر ' فانی'
پیچھے پیچھے وہ دبے پاؤں قضا بھی آئی


Comments about عشق نے دِل میں جگہ کی تو قضا بھی آئی by Fani Badayuni

There is no comment submitted by members..



Read this poem in other languages

This poem has not been translated into any other language yet.

I would like to translate this poem »

word flags

What do you think this poem is about?



Poem Submitted: Wednesday, April 18, 2012

Poem Edited: Wednesday, April 18, 2012


[Report Error]