کچھ ایسی بات کرو ، تم نئے نئے سے لگو
پھر سے سمجھو کہ ہماری ہے ملاقات نئی
پھرسےڈھونڈومیری باتوں میں کوئ بات نئی
یہاں کی بات کچھ ایسی وہاں کی بات کرو
کچھ ایسی بات کرو ، تم نئے نئے سے لگو
فضا میں رنگ اُڑے رنگ میں سو رنگ اُتریں
ہوا میں ساز بجے ، ساز میں سب سُر بکھریں
گُلوں کی بات کرو ، گُلسِتاں کی بات کرو
کچھ ایسی بات کرو ، تم نئے نئے سے لگو
پھرسےآجاومیرے دل میں کوئی گھر ڈھونڈو
پھر سے آو کوئی ہمدم میرے اندر ڈھونڈو
غمِ حیات ، صفِ دشمناں کی بات کرو
کچھ ایسی بات کرو ، تم نئے نئے سے لگو
نئی محفل بھی ، نئے جام بھی پھر لے آو
نئے صیاد ، نئے دام بھی پھر لے آو
نئی اُڑان ، نئے آسماں کی بات کرو
کچھ ایسی بات کرو ، تم نئے نئے سے لگو
ایسےسمجھو مجھےتم نے کبھی جانا ہی نہیں
ایسےسمجھوتمہیں میں نےکبھی چاہا ہی نہیں
ھمارے بِیچ نئی داستاں کی بات کرو
کچھ ایسی بات کرو ، تم نئے نئے سے لگو
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem