Amjad Islam Amjad

(4 August 1944 / Sialkot)

شکستِ انا - Poem by Amjad Islam Amjad

آج کی رات بہت سرد بہت کالی ہے
تیرگی ایسے لپٹتی ہے ہوائے غم سے
اپنے بچھڑے ہوئے ساجن سے ملی ہے جیسے
مشعلِ خواب کچھ اس طور بجھی ہے جیسے
درد نے جاگتی آنکھوں کی چمک کھا لی ہے
شوق کا نام نہ خواہش کا نشاں ہے کوئی
برف کی سِل نے مرے دل کی جگہ پا لی ہے
اب دھندلکے بھی نہیں زینت ِ چشمِ بے خواب
آس کا روپ محل،دست تہی ہے جیسے!
بحر ِ امکان پہ کائی سی جمی ہے جیسے!
ایسے لگتا ہے کہ جیسے میرا معمورہ ء جاں
کسی سیلاب زدہ گھر کی زبوں حالی ہے۔
نہ کوئی دوست نہ تارہ کہ جسے بتلاؤں !
اس طرح ٹوٹ کے بکھرا ہے انَا کا شیشہ
میرا پندار مرے دل کے لئے گالی ہے
نبض تاروں کی طرح ڈوب رہی ہے جیسے
غم کی پہنائی سمندر سے بڑی ہے جیسے
آنکھ صحراؤں کے دامن کی طرح خالی ہے
دشتِ جاں کی طرف دیکھ کے یوں لگتا ہے
موت اس طرح کے جینے سے بھلی ہے جیسے
تیرگی چھٹنے لگی،وقت رگے گا کیوں کر
صبح ِ خورشید لیئے در پہ کھڑی ہے جیسے
داغِ رسوائی چھپائے سے نہیں چھپ سکتا
یہ تو یوں ہے کہ جبیں بول رہی ہے جیسے

Listen to this poem:

Comments about شکستِ انا by Amjad Islam Amjad

There is no comment submitted by members..



Read this poem in other languages

This poem has not been translated into any other language yet.

I would like to translate this poem »

word flags

What do you think this poem is about?



Poem Submitted: Tuesday, April 10, 2012



[Report Error]