Amjad Islam Amjad

(4 August 1944 / Sialkot)

تمہیں میں کس طرح دیکھوں - Poem by Amjad Islam Amjad

دریچہ ہے دھنک کا اوراک بادل کی چلمن ہے
اور اس چلمن کے پیچھے چھپ کے بیٹھے
کچھ ستارے ہیں ستاروں کی
نگاہوں میں عجیب سی ایک الجھن ہے
وہ ہم کو دیکھتے ہیں اور پھر آپس میں کہتے ہیں
یہ منظر آسماں کا تھا یہاں پر کس طرح پہنچا
زمیں ذادوں کی قسمت میں یہ جنت کس طرح آئی؟
ستاروں کی یہ حیرانی سمجھ میں آنے والی ہے
کہ ایسا دلنشیں منظر کسی نے کم ہی دیکھا ہے
ہمارے درمیاں اس وقت جو چاہت کا موسم ہے
اسے لفظوں میں لکھیں تو کتابیں جگمگااٹھیں
جو سوچیں اس کے بارے میں توروحیں گنگنا اٹھیں
یہ تم ہو میرے پہلو میں
کہ خواب زندگی تعبیر کی صورت میں آیا ہے؟
یہ کھلتے پھول سا چہرہ
جو اپنی مسکراہٹ سے جہاں میں روشنی کردے
لہو میں تازگی بھردے
بدن اک ڈھیر ریشم کا
جو ہاتھوں میں نہیں رکتا
انوکھی سی کوئی خوشبو کہ آنکھیں بند ہو جائیں
سخن کی جگمگاہٹ سے شگوفے پھوٹتے جائیں
چھپا کاجل بھری آنکھوں میں کوئی راز گہرا ہے
بہت نزدیک سے دیکھیں تو چیزیں پھیل جاتی ہیں
سو میرے چار سو دو جھیل سی آنکھوں کا پہرا ہے
تمہیں میں کس طرح دیکھوں

Listen to this poem:

Comments about تمہیں میں کس طرح دیکھوں by Amjad Islam Amjad

There is no comment submitted by members..



Read this poem in other languages

This poem has not been translated into any other language yet.

I would like to translate this poem »

word flags

What do you think this poem is about?



Poem Submitted: Tuesday, April 10, 2012



[Report Error]