Muzaffar Warsi

(20 December 1933 - 28 January 2011 / Meerath / India)

یا رحمتہ العالمیں - Poem by Muzaffar Warsi

-->



یا رحمتہ العالمیں
الہام جامہ ہے تیرا
قرآں عمامہ ہے تیرا
منبر تیرا عرشِ بریں
یا رحتمہ العالمیں

آئینہِ رحمت بدن
سانسیں چراغِ علم و فن
قربِ الٰہی تیرا گھر
الفقر و فخری تیرا دھن
خوشبو تیری جوئے کرم
آنکھیں تیری بابِ حرم
نُورِ ازل تیری جبیں
یا رحمتہ العالمیں

تیری خموشی بھی اذاں
نیندیں بھی تیری رتجگے
تیری حیاتِ پاک کا
ہر لمحہ پیغمبر لگے
خیرالبشر رُتبہ تیرا
آوازِ حق خطبہ تیرا
آفاق تیرے سامعیں
یا رحمتہ العالمیں

قبضہ تیری پرچھائیں کا
بینائی پر، ادراک پر
قدموں کی جنبش خاک پر
اور آہٹیں افلاک پر
گردِ سفر تاروں کی ضَو
مرقب براقِ تیز رَو
سائیس جبرئیلِ امیں
یا رحمتہ العالمیں

تو آفتابِ غار بھی
تو پرچم ِ یلغار بھی
عجز و وفا بھی، پیار بھی
شہ زور بھی سالار بھی
تیری زِرہ، فتح و ظفر
صدق و وفا تیری سپر
تیغ و تبر، صبر و یقیں
یا رحمۃ للعالمیں

پھر گڈریوں کو لعل دے
جاں پتھروں میں ڈال دے
حاوی ہوں مستقبل پہ ہم
ماضی سا ہم کو حال دے
دعویٰ ہے تیری چاہ کا
اس امتِ گُم راہ کا
تیرے سوا کوئی نہیں
یا رحمتہ العالمیں


Comments about یا رحمتہ العالمیں by Muzaffar Warsi

  • (11/13/2015 2:24:00 AM)


    Great Naat.

    قبضہ تیری پرچھائیں کا
    بینائی پر، ادراک پر
    (Report) Reply

    0 person liked.
    0 person did not like.
  • (11/13/2015 2:23:00 AM)


    قبضہ تیری پرچھائیں کا
    بینائی پر، ادراک پر
    (Report) Reply

Read all 2 comments »



Read this poem in other languages

This poem has not been translated into any other language yet.

I would like to translate this poem »

word flags

What do you think this poem is about?



Poem Submitted: Wednesday, April 11, 2012

Poem Edited: Wednesday, April 11, 2012


[Report Error]