Ehsan Danish

(1914 - 22 March 1978 / Kandhla / India)

یوں نہ مل مجھ سے خفا ہو جیسے - Poem by Ehsan Danish

یوں نہ مل مجھ سے خفا ہو جیسے
ساتھ چل موجِ صبا ہو جیسے

لوگ یوں دیکھ کر ہنس دیتے ہیں
تُو مجھے بھول گیا ہو جیسے

موت بھی آئی تو اس ناز کے ساتھ
مجھ پہ احسان کیا ہو جیسے

ایسے انجان بنے بیٹھے ہو
تم کو کچھ بھی نہ پتا ہو جیسے

ہچکیاں رات کو آتی ہی رہیں
تو نے پھر یاد کیا ہو جیسے

زندگی بیت رہی ہے دانش
اک بے جرم سزا ہو جیسے


Comments about یوں نہ مل مجھ سے خفا ہو جیسے by Ehsan Danish

There is no comment submitted by members..



Read this poem in other languages

This poem has not been translated into any other language yet.

I would like to translate this poem »

word flags

What do you think this poem is about?



Poem Submitted: Friday, April 13, 2012

Poem Edited: Friday, April 13, 2012


[Report Error]