علاج دل ہے یہ جو دل فگار کرتا ہوں
میں اس کے دل کو بھی اب بے قرار کرتا ہوں وہ باغبان ہے کامل کے جس سے پا کے فن
میں ریگزاروں کو اب سبزہ زار کرتا ہوں
جو اس سے مہرو محبت کو جرم کہتے ہو
تو یہ گناہ میں اب بار بار کرتا ہوں
محبتوں کے سفر میں رقابتیں کیسی
جلیس یار سے بھی میں تو پیار کرتا ہوں
نہ جانے کیوں تو لٹا کون راہزن تیرا
توغور کر ، میں تو اکثر بچار کرتا ہوں
مجھے ہے فخر تعلق پے پیر کنعاں سے
کے حاسدوں پے بھی میں اعتبار کرتا ہوں
لبوں پر جن کے تبسم دلوں میں کینہ ہو
کبھی نہ ان کو میں اپنا شمار کرتا ہوں
صنم ماہے بہ زنجیر دست و پا میری
لپٹ کے اس سے میں بوس و کنار کرتا ہوں نہیں ہے فرق زرا چین اور مرنے میں
میں بود اور حد نابود پار کرتا ہوں
یہ زعم قربت فرماں روا ، عبث بے سود
تو اس پر کر ، میں خدا پر مدار کرتا ہوں
جو لکھ رہا ہوں ، دلوں تک اسے رسائی دے میں تجھ سے عرض ہے پروردگار کرتا ہوں
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem