علاج دل Poem by Hussan Ahmad Ks

علاج دل

علاج دل ہے یہ جو دل فگار کرتا ہوں
میں اس کے دل کو بھی اب بے قرار کرتا ہوں وہ باغبان ہے کامل کے جس سے پا کے فن
میں ریگزاروں کو اب سبزہ زار کرتا ہوں
جو اس سے مہرو محبت کو جرم کہتے ہو
تو یہ گناہ میں اب بار بار کرتا ہوں
محبتوں کے سفر میں رقابتیں کیسی
جلیس یار سے بھی میں تو پیار کرتا ہوں
نہ جانے کیوں تو لٹا کون راہزن تیرا
توغور کر ، میں تو اکثر بچار کرتا ہوں
مجھے ہے فخر تعلق پے پیر کنعاں سے
کے حاسدوں پے بھی میں اعتبار کرتا ہوں
لبوں پر جن کے تبسم دلوں میں کینہ ہو
کبھی نہ ان کو میں اپنا شمار کرتا ہوں
صنم ماہے بہ زنجیر دست و پا میری
لپٹ کے اس سے میں بوس و کنار کرتا ہوں نہیں ہے فرق زرا چین اور مرنے میں
میں بود اور حد نابود پار کرتا ہوں
یہ زعم قربت فرماں روا ، عبث بے سود
تو اس پر کر ، میں خدا پر مدار کرتا ہوں
جو لکھ رہا ہوں ، دلوں تک اسے رسائی دے میں تجھ سے عرض ہے پروردگار کرتا ہوں

علاج دل
Tuesday, September 14, 2021
Topic(s) of this poem: poem
COMMENTS OF THE POEM
READ THIS POEM IN OTHER LANGUAGES
Close
Error Success