آنکھ اٹھانے کی جو ہمت نہیں کر سکتے ہم
پھر یہ طے ہے کہ حکومت نہیں کر سکتے ہم
ہم ہیں مزدور مشقت کا ثمر مانگتے ہں
معذرت مفت میں محنت نہیں کر سکتے ہم
دل اسی کا تھا اس کا ہے اسی کا رہے گا
اس امانت میں خیانت نہیں کر سکتے ہم
بعد از مرگ کہیں گے کہ بہت اچھا تھا
زندہ ہوتے ہوئے عزت نہیں کر سکتے ہم
صرف نفرت کو چھپانے کا بہانہ ہے میاں
یہ جو کہتے ہیں محبت نہیں کر سکتے ہم
عمر گزری ہے ترے پیڑوں کو پانی دیتے
اب ترے باغ سے ہجرت نہیں کر سکتے ہم
سامنے ہیں تو چلو ہاتھ لگا لو ازور
کسی تصویر میں حرکت نہیں کر سکتے ہم
۔۔۔۔۔۔۔
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem