آنکھ اٹھانے کی جو ہمت نہیں کر سکتے ہم Poem by Azwer Lone

آنکھ اٹھانے کی جو ہمت نہیں کر سکتے ہم

آنکھ اٹھانے کی جو ہمت نہیں کر سکتے ہم
پھر یہ طے ہے کہ حکومت نہیں کر سکتے ہم

ہم ہیں مزدور مشقت کا ثمر مانگتے ہں
معذرت مفت میں محنت نہیں کر سکتے ہم

دل اسی کا تھا اس کا ہے اسی کا رہے گا
اس امانت میں خیانت نہیں کر سکتے ہم

بعد از مرگ کہیں گے کہ بہت اچھا تھا
زندہ ہوتے ہوئے عزت نہیں کر سکتے ہم

صرف نفرت کو چھپانے کا بہانہ ہے میاں
یہ جو کہتے ہیں محبت نہیں کر سکتے ہم

عمر گزری ہے ترے پیڑوں کو پانی دیتے
اب ترے باغ سے ہجرت نہیں کر سکتے ہم

سامنے ہیں تو چلو ہاتھ لگا لو ازور
کسی تصویر میں حرکت نہیں کر سکتے ہم
۔۔۔۔۔۔۔

COMMENTS OF THE POEM
READ THIS POEM IN OTHER LANGUAGES
Close
Error Success