Zia Fatehabadi

(9 February 1913 - 19 August 1986 / Kapurthala, Punjab / India)

بہکی بہکی ہیں، نگاہوں کو نہ جانے کیا ہوا - Poem by Zia Fatehabadi

بہکی بہکی ہیں، نگاہوں کو نہ جانے کیا ہوا
کھوئی کھوئی سی ہیں، راہوں کو نہ جانے کیا ہوا
دل کی رگ رگ میں رواں تھا جن سے خون زندگی
ان تمنّاؤں کو، چاہوں کو نہ جانے کیا ہوا
نا مکمّل تھا فسانہ دھر کا جن کے بغیر
ان گداؤں، بادشاہوں کو نہ جانے کیا ہوا
آسماں سے واپس آئیں، دل میں گھٹ کر رہ گئیں
کیا بتاوں، میری آہوں کو نہ جانے کیا ہوا
معبد ہستی میں تھا جن کو عبدیّت پہ ناز
ان جبینوں، سجدہ گاہوں کو نہ جانے کیا ہوا
بن گئی ہیں دور ساغر بزم رنداں میں ضیاء
ان کی شرمیلی نگاہوں کو نہ جانے کیا ہوا


Comments about بہکی بہکی ہیں، نگاہوں کو نہ جانے کیا ہوا by Zia Fatehabadi

There is no comment submitted by members..



Read this poem in other languages

This poem has not been translated into any other language yet.

I would like to translate this poem »

word flags

What do you think this poem is about?



Poem Submitted: Tuesday, April 17, 2012

Poem Edited: Tuesday, April 17, 2012


[Report Error]