غزل Poem by Ehsan Ul Haq

غزل

حواسوں میں بغاوت پڑ گئی ہے

‘‘میرے پیچھے محبت پڑ گئی ہے''

کوئی چھلّا، دوا دارُو، کوئی دم

گلے کیسی مصیبت پڑ گئی ہے

شبِ ماہتاب اوردیدارِ جاناں

قیامت پر قیامت پڑ گئی ہے

قدم دربان کے تھامے ہیں بڑھ کے

ہمیں غالب سی عادت پڑ گئی ہے

کوئی جاؤشریروں کو خبر دو

رفیقوں میں رقابت پڑ گئی ہے

خدا حافظ ہو اس ملت کاسینا

سیاست میں شجاعت پڑ گئی ہے

شیخ احسان الحق سینا

COMMENTS OF THE POEM
READ THIS POEM IN OTHER LANGUAGES
Close
Error Success