کبھی آؤ تو سہی ہم سے شکایت کرنے
اس عشق سے میرے دل سے بغاوت کرنے
بے چین کر دیتی ہے تیری یادیں اکثر
کچھ لمحوں کے لئے آجا ہم سے دو پل کی محبت کرنا
تو تو چلا گیا مجھے مجھ ہی میں دفن کر کے
کون آئے گا تیرے شہر میں اب عشق یہ بات کرنے
آے نادان رک جا سنبھال لے اس دل کے "ارمان"
کوئی پھر سے نکلا ہے تجھ سے ، تیری ذات سے محبت کرنے
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem