کسی نظر کو جو بڑھ کے دیکھا
اُسی نظر نے ہمیں گرایا۔
بہت گرا کے دیکھا خودکو
تب جا کے اپنا وجود پایا۔
کہ جس کو چاہا تھا خودسے بڑھ کر
اُسی قمر نے روح کو ستایا۔
کہ جس کا دل تھا ہمارا مسکن
اُسی نے ہمکو ویراں بنایا۔
کہ جس خوشی میں سکون پایا
اُسی نے ہمسے آنسوں بہایا۔
بہا کے سونچا کہ مڑُھ کے دیکھوں
جہاں بھی دیکھا خودکو اکیلا پایا۔
۔ بٹ اعجاز ۔
WWW.GULMARG.WAPKA.ME
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem