Zia Fatehabadi

(9 February 1913 - 19 August 1986 / Kapurthala, Punjab / India)

منا ہی لیا - Poem by Zia Fatehabadi

میرے جیون کی بگیا ہے پھولی ہوئی
یاد پھر آ گئی بات بھولی ہوئی
من کے ساگر میں طوفاں امنگوں کا ہے
کھیل سارا انوکھا یہ رنگوں کا ہے
وہ تو سوتے تھے میں نے جگا ہی لیا
اپنے پیتم کو میں نے منا ہی لیا

میں تو خوشیوں کے دیپک جلانے چلی
پریت کے گیت سب کو سنانے چلی
میرے آنگن میں آج اجالا ہے پھر
میری آشا نے مجھ کو پکارا ہے پھر
اپنی بگڑی ہوئی کو بنا ہی لیا
اپنے پیتم کو میں نے منا ہی لیا

ساز بجتا ہے بوندوں کا، گاتی ہوں میں
اپنے پیتم کو جھولا جھلاتی ہوں میں
میری آنکھوں کو پھر روشنی مل گئی
آ پ ہی آ پ من کی کلی کھل گئی
اپنا کھویا ہوا چین پا ہی لیا
اپنے پیتم کو میں نے منا ہی لیا


Comments about منا ہی لیا by Zia Fatehabadi

There is no comment submitted by members..



Read this poem in other languages

This poem has not been translated into any other language yet.

I would like to translate this poem »

word flags

What do you think this poem is about?



Poem Submitted: Tuesday, April 17, 2012

Poem Edited: Tuesday, April 17, 2012


[Report Error]