وہی بہہ گئے Poem by Mazloom Gill

وہی بہہ گئے

وہی بہہ گئے مفادات کے سمندر میں
جن سے درس سنا تھا بہت تیراکی کا
ظاہر کی آنکھ میں فقط یہ ھے آیا
وہ حُسن ھے جو بن گیا بے باکی کا
غرور جس کا زمیں پر ٹھہرتا نہیں
ملا دیا یہ زمیں غرور اُس خاکی کا
گزاری زندگی اُس بہت مکاری سے
پھر بیڑا وڑ گیا اس کی چالاکی کا
بہایا خون ھے جس نے بے رحمی سے
کھلا اظہار ھے اس کی سفاکی کا
صدا غمگین ھے مظؔلوم دنیا میں
جنازہ جا رہا اُس کی غمناکی کا

COMMENTS OF THE POEM
READ THIS POEM IN OTHER LANGUAGES
Close
Error Success