وہی بہہ گئے مفادات کے سمندر میں
جن سے درس سنا تھا بہت تیراکی کا
ظاہر کی آنکھ میں فقط یہ ھے آیا
وہ حُسن ھے جو بن گیا بے باکی کا
غرور جس کا زمیں پر ٹھہرتا نہیں
ملا دیا یہ زمیں غرور اُس خاکی کا
گزاری زندگی اُس بہت مکاری سے
پھر بیڑا وڑ گیا اس کی چالاکی کا
بہایا خون ھے جس نے بے رحمی سے
کھلا اظہار ھے اس کی سفاکی کا
صدا غمگین ھے مظؔلوم دنیا میں
جنازہ جا رہا اُس کی غمناکی کا
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem