تم جو گئے تو زندگی گئی میرے ناز و شوق سب گئے
بس وقت گزرتا گیا انتظار میں یہ سال مہینے جانے کب گئے
چھائی رہتی اب میرے چہرے پر اداسی
میرے الفاظ کرتے ہیں میرے غموں کی عکاسی
ہنسنا کھیلنا اس رشکِ گل کا دکھاوا ہوگیا
کیا تجھے لگتا ہے میرے غموں کا مداوا ہو گیا
رہ گئے سوال فقط تم دے کر جواب جب گئے
قسمت کی بنجر زمین میں ارمان میرے دب گئے
از قلم رشکِ گل✍️💔😭
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem