کیا محبوب، محبت، جانی Poem by Imran Cheema

کیا محبوب، محبت، جانی

کیا محبوب، محبت، جانی
لفظوں کے بدلے ہیں معانی

بات محبت کی مت کیجو
یہ جذبہ پُرکھوں کی نشانی

جان امانت تھی بس تیری
لے ڈوبی اِس کو یہ گِرانی

تیرا میرا رشتہ جیسے
ہو بہتی ندّی کی روانی

اُس کی زلفوں کے سائے میں
ہر موسم کی دھوپ سہانی

دیکھا دیکھی ہم نے گنوا دی
پیار کے پیچھے بھری جوانی

چاند پِھرے اتراتا ہر سُو
مانگ کے اس سے نور افشانی

میں نے سمجھایا تھا بادل
مت سنیو! عمران کہانی

June,8,2017

Sunday, June 11, 2017
Topic(s) of this poem: june,loneliness
COMMENTS OF THE POEM
READ THIS POEM IN OTHER LANGUAGES
Imran Cheema

Imran Cheema

Hafizabad, Pakistan
Close
Error Success