غزل
خواب مہمان کے مہمان تھے لمحے بھر کے
لے گے جاتے ہووے چین وہ سارے گھر کے
کل تلک جو میرے جینے کی دعا کرتے تھے
بعد دعائیں مجھے دیتے ہیں وہ جھولی بھر کے
یاد تیری جو بھری ہے تو چلی آنكھوں میں
حال پوچھے نا کوئی مجھ سے یہ دیدہ تر کے
عشق نئے کر دیا ماج نان یہ معلوم ہوا
اب نا پوچھو یہ مزے لیتے ہیں جو دَر دَر کے
مہر پاتھ رئی ہوئی آنکھوں میں ہے عکاس تیرا
گھور سے دیکھے کوئی عکاس ہیں سب دلبر کے
کرنل محمد خالد خان
کاپی رائٹ دیک 2020 پیار ہی پیار
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem