غزل
عشق ہارا نہیں ہرایا گیا
زہر پانی میں ہے ملایا گیا
میں تجھے دیکھ دیکھ جیتا ہوں
مجھ کو ہر دور میں جلایا گیا
اچھا ہوتا میں تجھ پے مر جاتا
جانے جان کیوں مجھے بچایا گیا
میں ہوں تخلیق اپنے خالق کی
اِس لیے مجھ کو آزمایا گیا
نور جب نور سے ملا ہو گا
سب نئے دیکھا کے اِس کا سایہ گیا
رب کا محبوب رب سے ملنے کو
آسمانوں پے تھا بلایا گیا
مہر میں خاک میں ہی بہتر تھا
کیوں مجھے عشق سے سجایا گیا
کرنل محمد خالد خان
کاپی رائٹ دیک 2020 پیار ہی پیا
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem