اک جل پری سے پہلے کہیں مل چکا ہوں میں
دیوانگی سے پہلے کہیں مل چکا ہوں میں
حیرانگی نہیں ہے تری بے وفائی پر
حیرانگی سے پہلے کہیں مل چکا ہوں میں
سنجیدگی سوار ہے یہ جو نئی نئی
آوارگی سے پہلے کہیں مل چکا ہوں میں
ہر آدمی سے مل کے یہی لگتا ہے مجھے
اس آدمی سے پہلے کہیں مل چکا ہوں میں
یونہی خیال پڑتا ہے مجھ کو کبھی کبھی
اس زندگی سے پہلے کہیں مل چکا ہوں میں
شاید اسی لیے ہے مرے دل کو اتنا صبر
تشنہ لبی سے پہلے کہیں مل چکا ہوں میں
ازور سبھی کو ملتا ہوں ایسے تپاک سے
جیسے سبھی سے پہلے کہیں مل چکا ہوں میں
۔۔۔۔۔
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem
The caption of poem translates as ‘ I have met a mermaid somewhere before'…. I would like to understand what the poem is about..