اک جل پری سے پہلے کہیں مل چکا ہوں میں Poem by Azwer Lone

اک جل پری سے پہلے کہیں مل چکا ہوں میں

اک جل پری سے پہلے کہیں مل چکا ہوں میں
دیوانگی سے پہلے کہیں مل چکا ہوں میں

حیرانگی نہیں ہے تری بے وفائی پر
حیرانگی سے پہلے کہیں مل چکا ہوں میں

سنجیدگی سوار ہے یہ جو نئی نئی
آوارگی سے پہلے کہیں مل چکا ہوں میں

ہر آدمی سے مل کے یہی لگتا ہے مجھے
اس آدمی سے پہلے کہیں مل چکا ہوں میں

یونہی خیال پڑتا ہے مجھ کو کبھی کبھی
اس زندگی سے پہلے کہیں مل چکا ہوں میں

شاید اسی لیے ہے مرے دل کو اتنا صبر
تشنہ لبی سے پہلے کہیں مل چکا ہوں میں

ازور سبھی کو ملتا ہوں ایسے تپاک سے
جیسے سبھی سے پہلے کہیں مل چکا ہوں میں
۔۔۔۔۔

COMMENTS OF THE POEM

The caption of poem translates as ‘ I have met a mermaid somewhere before'…. I would like to understand what the poem is about..

0 0 Reply
READ THIS POEM IN OTHER LANGUAGES
Close
Error Success