محمد خالد خان
دسمبر 14 ، 2018ء ·
غزل
تم کہو تو میں بس وہاں رکھوں
اتنے دِل میں کاہان کاہان رکھوں
ہے صنم خانہ یہ جہاں سارا
تم کہو میں زُبان کہاں رکھوں
حسن نئے حوصلہ بڑھایا ہے
عشق کو کیوں نا درمیان رکھوں
انگ انگ میں چراغ جلتے ہیں
ہیں اندھیرے کہاں کہاں رکھوں
ہے بھنور میں یہ زندگی ساری
کیا میں کشتی میں باد بان رکھوں
تو مجھے مل گیا تھا رستے میں
پاس کیوں اب میں دو جہاں رکھوں
زَرْد سہرہ میں ہے سفر سارا
سَر پا پِھر کیوں میں آسمان رکھوں
عمر سا کیسا لینا دینا ہے
دِل کو آئے جان نا کیوں جوان رکھوں
ساتھ ہیں تیرے شہر بھر کا لوگ
دِل کو میں کتنا بعد گمان رکھوں
مہر دشمن ہوا جہاں سارا
بولو جاناں کو میں کہاں رکھوں
کرنل محمد خالد خان
کاپی رائٹ 2018ء ہاتھ میں ہاتھ
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem