غزل
جب سے وہ شوخ ہے نگاہوں میں
چاند رہتا ہے اپنی بہنوں میں
خون پی کر بھی خوش نہیں ہوتے
فرق ہے اپنوں میں پارایون میں
پھول یوں چھاؤں کر کے بیٹھے ہیں
شوخ گزرے گا ان کی چھاحون میں
اب تو ماسومییت کا نام نہیں
روشنی آ گئی ہے گاؤں میں
اُس نئے بے آسارا کیا ایسے
آسْرا کس کا لے کے جاؤں میں
وہ مجھے چھوڑ کر چلا بھی گیا
وعدے اب پیار کے نبھاؤں میں
میرے اپنوں نئے ڈس لیا مجھ کو
مہر اب کیسے مسکرائوں میں
کرنل محمد خالد خان
کاپی رائٹ 2018ء ہاتھ میں ہاتھ
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem