یا محبت کی اوس گری ہوگی، جو تم ملے
یا جھومتی فضائوں نے چھوا ہوگا، جو تم ملے
وقت کی اس اُلجھی پہیلی میں بات ہوگی، جو تم ملے
دھیمی سی دل کی دھڑکن میں کچھ تو تھا، جو تم ملے
تیری پلکوں کے اشارے کچھ تو کہہ رہے ہیں، جو تم ملے
کچھ تو جوڑ رہا تھا تیرا دل میرے دل کو، جو تم ملے
اب تم ہی بتائو نندنی ان اشاروں کی پہیلیاں
یہ سازش ہے یا اتفاق ہمارے ساتھ، جو تم ملے
Khoobsoorat kalam..........................................................
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem
A refined poetic imagination, Shakira. You may like to read my poem, Love And Lust. Thank you.