جو تم ملے Poem by Shakira Nandini

جو تم ملے

Rating: 4.8

یا محبت کی اوس گری ہوگی، جو تم ملے
یا جھومتی فضائوں نے چھوا ہوگا، جو تم ملے
وقت کی اس اُلجھی پہیلی میں بات ہوگی، جو تم ملے
دھیمی سی دل کی دھڑکن میں کچھ تو تھا، جو تم ملے
تیری پلکوں کے اشارے کچھ تو کہہ رہے ہیں، جو تم ملے
کچھ تو جوڑ رہا تھا تیرا دل میرے دل کو، جو تم ملے
اب تم ہی بتائو نندنی ان اشاروں کی پہیلیاں
یہ سازش ہے یا اتفاق ہمارے ساتھ، جو تم ملے

COMMENTS OF THE POEM
Jazib Kamalvi 24 October 2017

A refined poetic imagination, Shakira. You may like to read my poem, Love And Lust. Thank you.

0 0 Reply
Khalid Saifullah 24 October 2017

Khoobsoorat kalam..........................................................

0 0 Reply
READ THIS POEM IN OTHER LANGUAGES
Close
Error Success