غم دوراں سے گھڑی بھر کو جو فرصت تھی ملی
یہ وہی لمحہ تھا جب چاند سی صورت تھی ملی
بڑی گرمی تھی پسینے میں نہایا ہوا تھا وہ
جیب میں پییسے تھے کام کی اجرت تھی ملی
شام کی ٹھنڈی ہواؤں میں یہ پیغام آیا تھا
دوزخ دہر میں مزدور کو جنت تھی ملی
روٹی تیارہے سالن بھی بکا رکھا ہے
بھوکے بیتاب کوچٹپٹی راحت تھی مملی
سوچا کہ میں کوئ چیز زرا لے کے چلوں
آج ہر روز سے بہتر زرا قدرت تھی ملی
جھمکا بیتل کا یا پھرکانچ کا کنگن لے لوں
مہرباں آج زرا حال پہ قدرت تھی ملی
جھمکا مہنگا تویہ کنگن بھی نہییں تھا سستاا
ان غریبوں کوازل سے بری قسمت تھی ملی
املی پنساری سے لی اور ہری مررچ پودینہ
اسکو بچپن سے اسی چٹنی کی لذت تھی ملی
پھر خیال آیا کہ گھرمیں تو نہيں ہے چینی
پیسے کم اتنی زیادہ نہیں اجرت تھی ملی
تھوڑا سا گڑ لیۓ جھگی میں چلا آیا وہ
ایک وفادار جہاں مشرقی عورت تھی ملی
بیوی نے ہنس کے بلایا تو وہ لپٹا اس سے
میٹھے ہونٹووں میں بڑی قیمتی دولت تھی ملی
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem