مہنگائ Poem by Akhtar Jawad

مہنگائ

غم دوراں سے گھڑی بھر کو جو فرصت تھی ملی
یہ وہی لمحہ تھا جب چاند سی صورت تھی ملی
بڑی گرمی تھی پسینے میں نہایا ہوا تھا وہ
جیب میں پییسے تھے کام کی اجرت تھی ملی
شام کی ٹھنڈی ہواؤں میں یہ پیغام آیا تھا
دوزخ دہر میں مزدور کو جنت تھی ملی
روٹی تیارہے سالن بھی بکا رکھا ہے
بھوکے بیتاب کوچٹپٹی راحت تھی مملی
سوچا کہ میں کوئ چیز زرا لے کے چلوں
آج ہر روز سے بہتر زرا قدرت تھی ملی
جھمکا بیتل کا یا پھرکانچ کا کنگن لے لوں
مہرباں آج زرا حال پہ قدرت تھی ملی
جھمکا مہنگا تویہ کنگن بھی نہییں تھا سستاا
ان غریبوں کوازل سے بری قسمت تھی ملی
املی پنساری سے لی اور ہری مررچ پودینہ
اسکو بچپن سے اسی چٹنی کی لذت تھی ملی
پھر خیال آیا کہ گھرمیں تو نہيں ہے چینی
پیسے کم اتنی زیادہ نہیں اجرت تھی ملی
تھوڑا سا گڑ لیۓ جھگی میں چلا آیا وہ
ایک وفادار جہاں مشرقی عورت تھی ملی
بیوی نے ہنس کے بلایا تو وہ لپٹا اس سے
میٹھے ہونٹووں میں بڑی قیمتی دولت تھی ملی

COMMENTS OF THE POEM
READ THIS POEM IN OTHER LANGUAGES
Akhtar Jawad

Akhtar Jawad

Gorakhpur
Close
Error Success