منشئات کا پھیلاؤ Poem by Akhtar Jawad

منشئات کا پھیلاؤ

ڈرگ مافیآ کے سرپرست بھیس بدل کے آتے ہیں
تعلیم کے اداروں میں یہ زہر جو پھیلاتے ہیں
سیاست انکی لونڈی وہ حکمراں ہیں قوم کے
ان ہی کا پیسہ ہوتا ہے حکومتیں بناتے ہیں
شریف ہے اگر کوئ تو نام کا شریف ہے
کھلاڑی ہےاگرکوئ تو کھل بھی کھیلتا ہےوہ
ہو شیخ یا براہمن منافقوں کا راج ہے
ہے ڈنڈا گر جو ہاتھ میں دنڈ پیلتا ہے وہ
بیٹے کب کے بگڑے تھے لو بیثیاں بگڑگئیں
نشہ کی عادی لڑکیاں بیچتی ہیں عصمتیں
لغت بدل دوآج سے طَوائِفُ الْمُلُوکی یاں
قوم کے لیۓ نشہ لے کے آیا راحتیں

COMMENTS OF THE POEM
READ THIS POEM IN OTHER LANGUAGES
Akhtar Jawad

Akhtar Jawad

Gorakhpur
Close
Error Success