ڈرگ مافیآ کے سرپرست بھیس بدل کے آتے ہیں
تعلیم کے اداروں میں یہ زہر جو پھیلاتے ہیں
سیاست انکی لونڈی وہ حکمراں ہیں قوم کے
ان ہی کا پیسہ ہوتا ہے حکومتیں بناتے ہیں
شریف ہے اگر کوئ تو نام کا شریف ہے
کھلاڑی ہےاگرکوئ تو کھل بھی کھیلتا ہےوہ
ہو شیخ یا براہمن منافقوں کا راج ہے
ہے ڈنڈا گر جو ہاتھ میں دنڈ پیلتا ہے وہ
بیٹے کب کے بگڑے تھے لو بیثیاں بگڑگئیں
نشہ کی عادی لڑکیاں بیچتی ہیں عصمتیں
لغت بدل دوآج سے طَوائِفُ الْمُلُوکی یاں
قوم کے لیۓ نشہ لے کے آیا راحتیں
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem