یہ وقت کا کھیل نرالا ہے
کہ وقت گذرنے والاہے
قدرت کا کرشمہ کہ لیجئے
کہ چاند سے ، سورج اعلٰی ہے
ہو بغض، حسد کینہ دل میں
تو دل اندر سے کالا ہے
ہر غم کو مصیبت کو سہ کر
ہر ماں نے بچہ پالا ہے
اب قلم نہیں ، کتاب نہیں
اب ہاتھ میں برچھی بھالا ہے
© انجم علی نگری دربھنگہ بہار
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem