1-To a dream girl
اک مدت سے آ آ کر خوابوں میں تو ملتی ہو۔
آتے جاتے خوشبو سی سانسوں سانسوں کھلتی ہو۔
ضبط ہمیشہ کرتی ہو سر سے اونچے طوفاں کو۔
بند اگرچہ ٹوٹ بہیں رستے سے کب ہٹتی ہو۔
2-To a high up
چلہ کشان عشق بھی بیٹھے ہیں راہ میں۔
تو قید میں اداس ہے وہ چاہ راہ میں۔
نظروں کو پھیر دیکھ کے سہمی ہو شب ڈھلے۔
نظریں ٹکائے بیٹھے ہیں مر کر بھی راہ میں۔
ہاتھوں سے اپنے پاس بلا کر وہ چھپ گئے۔
بازی لگائی سانولے ہاتھوں کی چاہ میں۔
حبس دوام تجھ پہ گراں ہے اگر تو لڑ۔
آ جا حصار واہ سے صحرائے آہ میں۔
میں ہوں تری پناہ میں مجھ کو خبر نہ تھی۔
زیر قدم دبا تھا تلاش پناہ میں۔
تیری تپش سے جاذب و کندن ہوا ہوں میں۔
تجھ سے الجھ کے ہوں تری دشنام گاہ میں۔
3-Detectives' talk
بس چند صد سال یہاں کاربار ہے۔
آدم کے خانداں میں ابھی خلفشار ہے۔
پھر آسمان کو بھی کھنگالیں گے دل بہ دل۔
پرواز ساتھیوں کی ادھر رو بہ کار ہے۔
تھوڑا سا اختیار ہے بے غیرتوں کے پاس۔
فطرت پہ جو بھی ہے اسے جاذب قرار ہے۔
(جاذب کمالوی)
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem