جو بھول گیا سو بھول گیا جسے یاد رہا وہ اپنا تھا
جو مل نہ سکا سو مل نہ سکا شائد وہ ایک سپنا تھا
خوشبوتو نہ تھی پر رنگوں میں قوس قزح کا ڈیرا تھا
صحن میں میرے کھل نہ سکا چھوٹا سا میرا انگنا تھا
پھول کھلا تو گلشن میں پھولوں سے بھرا رنگین چمن
پھولوں کی بستی میں اس پھول کو کس نے تکنا تھا
سچی کہانی یاد آئ جسے پھول کبھی بھی پڑھ نہ سکا
پھول کا اپنا نصیب یہی تھا جھوٹے افسانے پڑھنا تھا
چاند نے مکھ کو موڑ لیا تاروں نے سینہ کوبی کی
حال پہ اسکے شبنم روئ یہ آنسو اسنے چکھنا تھا
پنکھڑیاں میں اٹھا لایا دل کی کتاب میں رکھی ہیں
یاد اسے تو رکھنا تھا جسےمرجھانا تھا بکھرنا تھا
سوکھی پنکھڑیوں سے تھوڑی سی خوشبو آنے لگی
وہم تھا یہ یا کرشمہ تھا یا بس ایک سندر سپنا تھا
دیکھو وقت نہ رکتا ہے نا پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے
اسی کمرے میں سو جاؤ جس کمرے میں مہکنا تھا
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem