جسے یاد رہا وہ اپنا تھا Poem by Akhtar Jawad

جسے یاد رہا وہ اپنا تھا

جو بھول گیا سو بھول گیا جسے یاد رہا وہ اپنا تھا
جو مل نہ سکا سو مل نہ سکا شائد وہ ایک سپنا تھا
خوشبوتو نہ تھی پر رنگوں میں قوس قزح کا ڈیرا تھا
صحن میں میرے کھل نہ سکا چھوٹا سا میرا انگنا تھا
پھول کھلا تو گلشن میں پھولوں سے بھرا رنگین چمن
پھولوں کی بستی میں اس پھول کو کس نے تکنا تھا
سچی کہانی یاد آئ جسے پھول کبھی بھی پڑھ نہ سکا
پھول کا اپنا نصیب یہی تھا جھوٹے افسانے پڑھنا تھا
چاند نے مکھ کو موڑ لیا تاروں نے سینہ کوبی کی
حال پہ اسکے شبنم روئ یہ آنسو اسنے چکھنا تھا
پنکھڑیاں میں اٹھا لایا دل کی کتاب میں رکھی ہیں
یاد اسے تو رکھنا تھا جسےمرجھانا تھا بکھرنا تھا
سوکھی پنکھڑیوں سے تھوڑی سی خوشبو آنے لگی
وہم تھا یہ یا کرشمہ تھا یا بس ایک سندر سپنا تھا
دیکھو وقت نہ رکتا ہے نا پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے
اسی کمرے میں سو جاؤ جس کمرے میں مہکنا تھا

Thursday, December 3, 2020
Topic(s) of this poem: forgotten love
COMMENTS OF THE POEM
READ THIS POEM IN OTHER LANGUAGES
Close
Error Success