یہ بھی کر کے دیکھ لیا وہ بھی کر کے دیکھ لیا
مانو یا نہ مانو ہم نے جیتے جی مر کے دیکھ لیا
جہاں کہیں بھی نظر گئی خودغرزوں کا میلہ تھا
زندگی کیا ایک جھولا ہے پینگیں بھرکے دیکھ لیا
تانا شاہوں کودیکھا جمہوری جوکر ہم نے دیکھے
رستہ کوئ نہیں چھوڑا سب سے گزر کے دیکھ لیا
راجکماری کوبھی دیکھا، راجا جی کوبھی دیکھ لیا
آنسو بہا کر دیکھ لیا اور آہیں بھر کے دیکھ لیا
ہم ہیں برے ورنہ بروں سے واسطہ اپنا نہیں پڑتا
جائیں کہاں ہم نے خدا سے شکوہ کرکے دیکھ لیا
صورت ہے بری پھربھی، برسوں تک سنگھارکیا
اور بگڑ کر دیکھ لیا ہم نے سنور کےدیکھ لیا
چھوڑواخترجھولاجھولو رسی ٹوٹےتو ٹوٹنے دو
آخرتم بچو گے کب تک دو ٹکڑے ہوکر دیکھ لیا
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem