جھولا Poem by Akhtar Jawad

جھولا

یہ بھی کر کے دیکھ لیا وہ بھی کر کے دیکھ لیا
مانو یا نہ مانو ہم نے جیتے جی مر کے دیکھ لیا
جہاں کہیں بھی نظر گئی خودغرزوں کا میلہ تھا
زندگی کیا ایک جھولا ہے پینگیں بھرکے دیکھ لیا
تانا شاہوں کودیکھا جمہوری جوکر ہم نے دیکھے
رستہ کوئ نہیں چھوڑا سب سے گزر کے دیکھ لیا
راجکماری کوبھی دیکھا، راجا جی کوبھی دیکھ لیا
آنسو بہا کر دیکھ لیا اور آہیں بھر کے دیکھ لیا
ہم ہیں برے ورنہ بروں سے واسطہ اپنا نہیں پڑتا
جائیں کہاں ہم نے خدا سے شکوہ کرکے دیکھ لیا
صورت ہے بری پھربھی، برسوں تک سنگھارکیا
اور بگڑ کر دیکھ لیا ہم نے سنور کےدیکھ لیا
چھوڑواخترجھولاجھولو رسی ٹوٹےتو ٹوٹنے دو
آخرتم بچو گے کب تک دو ٹکڑے ہوکر دیکھ لیا

COMMENTS OF THE POEM
READ THIS POEM IN OTHER LANGUAGES
Close
Error Success