دھواں Poem by Akhtar Jawad

دھواں

اختر اٹھو اوراس پار چلو اس پار بہت ہی نفرت ہے
کب سے سنتے آۓ ہیں وہاں یار ہے اور محبت ہے
سنے سناۓ قصے سہی لیکن رستہ کوئ اور نہیں
ہمراہ اگرکوئ نہیں کیئو ں اس بات پہ حیرت ہے
اس راہ پہ ہر ہمراہی دور سے ہاتھ ہلاتا ہے
کوئ ساتھ نہیں آتا کیا عزت ہے کیا دولت ہے
کوئ اس دریا میں ساتھ کسی کے اترتا نہیں
کیؤں تنہائ پہ روتے ہو تنہائ بھی راحت ہے
آگ اگلتی دھرتی ہے صحرہ ہے یا جنگل ہے
دورکہیں جزیرہ ہے جانے کسکی حکومت ہے
دھوئیں میں دم گھٹتا ہے میرا بہتر ہے جل جائیں
نا جینے دے نا مرنے رھواں تو ایک اذیئت ہے
یوں سلگنے سے بہتر اس پارآگ میں جل جاؤں
سوچتا ہوں رک جاؤں دنیا سے مجھکو محبت ہے

COMMENTS OF THE POEM
READ THIS POEM IN OTHER LANGUAGES
Close
Error Success