اختر اٹھو اوراس پار چلو اس پار بہت ہی نفرت ہے
کب سے سنتے آۓ ہیں وہاں یار ہے اور محبت ہے
سنے سناۓ قصے سہی لیکن رستہ کوئ اور نہیں
ہمراہ اگرکوئ نہیں کیئو ں اس بات پہ حیرت ہے
اس راہ پہ ہر ہمراہی دور سے ہاتھ ہلاتا ہے
کوئ ساتھ نہیں آتا کیا عزت ہے کیا دولت ہے
کوئ اس دریا میں ساتھ کسی کے اترتا نہیں
کیؤں تنہائ پہ روتے ہو تنہائ بھی راحت ہے
آگ اگلتی دھرتی ہے صحرہ ہے یا جنگل ہے
دورکہیں جزیرہ ہے جانے کسکی حکومت ہے
دھوئیں میں دم گھٹتا ہے میرا بہتر ہے جل جائیں
نا جینے دے نا مرنے رھواں تو ایک اذیئت ہے
یوں سلگنے سے بہتر اس پارآگ میں جل جاؤں
سوچتا ہوں رک جاؤں دنیا سے مجھکو محبت ہے
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem