ہاں فاصلہ بہت ہے مگر آپ آیۓ
سنگ بوریا نشین کے بیٹھ جایۓ
ہنس کر ہنسایۓ رو کر رلایۓ
بہنے لگیں جو آنسو آنسو بہایۓ
روتے روتے ایکدم مسکرایۓ
دل اپنا چیر کر مجھکو دکھایۓ
رنیا تو جبر ہےاسے آساں بنایۓ
بوجھ ہے توتھوڑا سا ہلکا بنایۓ
آج اپنے خوابوں کی تعبیرڈھونڈھیۓ
گرمی بہت ہے رت کو سہانا بنایئے
لاکھوں برس گزرگۓ انساں نہ بن سکے
اس جانور کو تھوڑا سا اچھا بنایۓ
غم بانٹنے کا نام ہے دوستی ہےکیا
گاتے ہیں آپ خوب کوئ گاناگایۓ
ایک کام تو کریں زرا بوتل اٹھایۓ
شربت بنا کے آج تو مجھکو پلایۓ
ہاتھوں میں آپ کے ہے قدرتی مٹھاس
ٹھہریں یہ چینی تھڑی سی کم ملایۓ
میں سمجھا تھا کہ شام ہے رات ہو گئی
اس جھونپڑی میں آ ج دیا ایک جلایۓ
دیکھے زرا یہ چاند زمی ہےحسین تر
اس بیوفا کو آج وفائیں سکھا یۓ
دنیا کا حسن ہےیہاں ہوتی ہے دوستی
اس دوستی پہ جان بھی اپنی لٹایۓ
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem