دوستی Poem by Akhtar Jawad

دوستی

ہاں فاصلہ بہت ہے مگر آپ آیۓ
سنگ بوریا نشین کے بیٹھ جایۓ
ہنس کر ہنسایۓ رو کر رلایۓ
بہنے لگیں جو آنسو آنسو بہایۓ
روتے روتے ایکدم مسکرایۓ
دل اپنا چیر کر مجھکو دکھایۓ
رنیا تو جبر ہےاسے آساں بنایۓ
بوجھ ہے توتھوڑا سا ہلکا بنایۓ
آج اپنے خوابوں کی تعبیرڈھونڈھیۓ
گرمی بہت ہے رت کو سہانا بنایئے
لاکھوں برس گزرگۓ انساں نہ بن سکے
اس جانور کو تھوڑا سا اچھا بنایۓ
غم بانٹنے کا نام ہے دوستی ہےکیا
گاتے ہیں آپ خوب کوئ گاناگایۓ
ایک کام تو کریں زرا بوتل اٹھایۓ
شربت بنا کے آج تو مجھکو پلایۓ
ہاتھوں میں آپ کے ہے قدرتی مٹھاس
ٹھہریں یہ چینی تھڑی سی کم ملایۓ
میں سمجھا تھا کہ شام ہے رات ہو گئی
اس جھونپڑی میں آ ج دیا ایک جلایۓ
دیکھے زرا یہ چاند زمی ہےحسین تر
اس بیوفا کو آج وفائیں سکھا یۓ
دنیا کا حسن ہےیہاں ہوتی ہے دوستی
اس دوستی پہ جان بھی اپنی لٹایۓ

READ THIS POEM IN OTHER LANGUAGES
Close
Error Success