کوئ کہتا ہے خواب ہےبس کوئ کہتا ہے ایک دھوکا ہے
کوئ کہتا ہےکچھ بھی نہیں ہوا کا بس ایک جھونکا ہے
کوئ کہتا ہے یہ گردش ہے کوئ کہتا ہے یہ سازش ہے
شرمندگی کوئ سمجھتا ہےآدم اورحوا کی لغزش ہے
کوئ کہتا ہے آزمائش ہے کیا خدا عالم الغیب نہیں
سب اپنا حال بتاتے ہیں دنیا میں کچھ بھی لاریب نہیں
لیکن یہ ایک تجربہ ہے اسے اور ہی کچھ بنانا تھا
بیترتیب ایک سمندرمیں ترتیب کا جال بچھانا تھا
اسے اپنے آپ کو دیکھنا تھا مرصع خود کوکرنا تھا
اسے بولنا تھا دیکھنا تھا آراستہ خود کوکرنا تھا
زندگی ایک تربیئت ہے یہ عارضی ایک سواری ہے
انسان مکمل نہیں ہوا تکمیل کی کوشش جاری ہے
زندگی ایک سفر ہے ہم سبکوآگےبڑھتے جانا ہے
پانے کی کوشش می ہمکو جانے کیا کیا گنوانا ہے
جسم گیا کبھی روح گئی ایک دل ہے جسپر آفت ہے
محبوب میرے سنوار مجھے دل میں تیری محبت ہے
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem