دنیا Poem by Akhtar Jawad

دنیا

کوئ کہتا ہے خواب ہےبس کوئ کہتا ہے ایک دھوکا ہے
کوئ کہتا ہےکچھ بھی نہیں ہوا کا بس ایک جھونکا ہے
کوئ کہتا ہے یہ گردش ہے کوئ کہتا ہے یہ سازش ہے
شرمندگی کوئ سمجھتا ہےآدم اورحوا کی لغزش ہے
کوئ کہتا ہے آزمائش ہے کیا خدا عالم الغیب نہیں
سب اپنا حال بتاتے ہیں دنیا میں کچھ بھی لاریب نہیں
لیکن یہ ایک تجربہ ہے اسے اور ہی کچھ بنانا تھا
بیترتیب ایک سمندرمیں ترتیب کا جال بچھانا تھا
اسے اپنے آپ کو دیکھنا تھا مرصع خود کوکرنا تھا
اسے بولنا تھا دیکھنا تھا آراستہ خود کوکرنا تھا
زندگی ایک تربیئت ہے یہ عارضی ایک سواری ہے
انسان مکمل نہیں ہوا تکمیل کی کوشش جاری ہے
زندگی ایک سفر ہے ہم سبکوآگےبڑھتے جانا ہے
پانے کی کوشش می ہمکو جانے کیا کیا گنوانا ہے
جسم گیا کبھی روح گئی ایک دل ہے جسپر آفت ہے
محبوب میرے سنوار مجھے دل میں تیری محبت ہے

COMMENTS OF THE POEM
READ THIS POEM IN OTHER LANGUAGES
Close
Error Success