سورج کو جگاؤ ،تو سمجھیں
روتے کو ہنساؤ، تو سمجھیں
جو آگ جلا دے گلشن کو
وہ آگ بجھاؤ ، تو سمجھیں
جو گیت دلوں کو راحت دے
اس گیت کو گاؤ ، تو سمجھیں
حق بات کی خاطر دشمن سے
تم آنکھ ملاؤ ، تو سمجھیں
جو جام مدینے والا ہو
وہ جام پلاؤ ، تو سمجھیں
میں دل اپنا دے بیٹھنگا
تم سامنے آؤ ، تو سمجھیں
© انجم علی نگری
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem