آزاد نہ ہوتے تو آزاد نہ ہوتے
ہم اپنے وطن میں کہیں آباد نہ ہوتے
اس ملک میں تعلیم کا قائم کیا نظام
بچوں کے لئے ملک کے تعلیم کیا عام
آزادی کے متوالوں میں اِن کا تھا بڑا نام
وہ چاہتے نہیں تھے کہ بھارت رہے غلام
انکے کہے پہ چلتے تو ،برباد نہ ہوتے
آزاد نہ ہوتے تو آزاد نہ ہوتے
اللہ نے ہر علم سے ان کو تھا نوازا
کوشش تھی کہ تہذیب کا نکلے نہ جنازہ
تقریر سے ،تحریر سے بیدار کیا تھا
رو رو کے رب سے درد کا اظہار کیا تھا
ملت سے کہا چھوڑ کر نہ جاؤ ملک کو
انگریز سے کہا کہ جلاؤ نہ ملک کو
ہم اس کی حفاظت کے لئے آج کھڑے ہیں
جنت میں گۓ ملک کی خاطر جو مرے ہیں
وہ مردِ مجاہد جو فولاد نہ ہوتے
ہم اپنے وطن میں کہیں آباد نہ ہوتے
© انجم علی نگری
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem