کتنے مجبور ہیں علم سے دور ہیں Poem by Anjum Alinagari

کتنے مجبور ہیں علم سے دور ہیں

کتنے مجبور ہیں ،علم سے دور ہیں
میرے بچے جہالت میں مشہور ہیں

وقت کی اہمیت وہ نہیں جانتے
بات اپنے بڑوں کی نہیں مانتے
ان کو اپنی زباں سے محبت نہیں
ان کے اندر تو باقی شرافت نہیں

ان کا کردار و گفتار اعلی نہیں
ان کا کل لوٹ کر آنے والا نہیں
ہو جو افسوس جا کر خبر لیجیے
باعمل وہ بنیں یہ دعاء کیجیے

علم کے ہی کمی سے وہ معذور ہیں
میرے بچے جہالت میں مشہور ہیں

انکو پاتا ہوں ہوٹل میں، دکان میں
انکو پاتا ہوں کھیتوں میں،کھلیان میں
علم کیا ہے انہیں کچھ پتا ہی نہیں
اس میں ان کی ذرا سی خطا بھی نہیں

ان کے ماحول کو بس بدل دیجئے
ان کا بہتر ہو کل ، کچھ پہل کیجئے

حال بدتر ہے پھر بھی وہ مغرور ہیں
جن کے بچے ، جہالت میں مشہور ہیں

کتنے مجبور ہیں،، ، کتنے مجبور ہیں
© انجم علی نگری

Wednesday, July 1, 2026
Topic(s) of this poem: nazm,urdu,ghazal
POET'S NOTES ABOUT THE POEM
आज बच्चे किताब से दूर जा रहे हैं। इल्म को अहमियत नहीं दे रहे
COMMENTS OF THE POEM
READ THIS POEM IN OTHER LANGUAGES
Anjum Alinagari

Anjum Alinagari

Alinagar, Darbhanga
Close
Error Success