کتنے مجبور ہیں ،علم سے دور ہیں
میرے بچے جہالت میں مشہور ہیں
وقت کی اہمیت وہ نہیں جانتے
بات اپنے بڑوں کی نہیں مانتے
ان کو اپنی زباں سے محبت نہیں
ان کے اندر تو باقی شرافت نہیں
ان کا کردار و گفتار اعلی نہیں
ان کا کل لوٹ کر آنے والا نہیں
ہو جو افسوس جا کر خبر لیجیے
باعمل وہ بنیں یہ دعاء کیجیے
علم کے ہی کمی سے وہ معذور ہیں
میرے بچے جہالت میں مشہور ہیں
انکو پاتا ہوں ہوٹل میں، دکان میں
انکو پاتا ہوں کھیتوں میں،کھلیان میں
علم کیا ہے انہیں کچھ پتا ہی نہیں
اس میں ان کی ذرا سی خطا بھی نہیں
ان کے ماحول کو بس بدل دیجئے
ان کا بہتر ہو کل ، کچھ پہل کیجئے
حال بدتر ہے پھر بھی وہ مغرور ہیں
جن کے بچے ، جہالت میں مشہور ہیں
کتنے مجبور ہیں،، ، کتنے مجبور ہیں
© انجم علی نگری
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem