موباںٔل موبائل موبائل کرینگے
صبح شام اس کا ہی کلمہ پڑھیں گے
سنا ہے یہ کہتے ، دیوانوں کو ہم نے
ہاں ہر ایک بچے ، جوانوں کو ہم نے
موبائل نے بدلی ہے دنیا کی صورت
ہے یہ دور حاضر میں سب کی ضرورت
یہ نہ پاس میں ہو تو بیکل رہیںنگے
موبائل موبائل موبائل کرینگے
کیٔ فاںٔدہ ہے ،کیٔ اس سے گھاٹا
کہیں پھول ہے تو ، کہیں ہے یہ کانٹا
خبر کا یہ ذریعہ ، بڑا پرکشش ہے
مگر اس کے اندر تپش ہی تپش ہے
جلا کر نہ رکھ دے کہیں یہ نسل کو
جلا کر نہ رکھ دے یہ ساری فصل کو
یہ ڈبا ، نہ دھبا بنے اس جہاں پر
برا کچھ۔ اثر ہو نہ امن و اماں پر
موبائل سے ہی سارے بچے پڑھینگے
موبائل موبائل موبائل کرینگے
© انجم علی نگری
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem