موبائل Poem by Anjum Alinagari

موبائل

موباںٔل موبائل موبائل کرینگے
صبح شام اس کا ہی کلمہ پڑھیں گے

سنا ہے یہ کہتے ، دیوانوں کو ہم نے
ہا‌ں ہر ایک بچے ، جوانوں کو ہم نے
موبائل نے بدلی ہے دنیا کی صورت
ہے یہ دور حاضر میں سب کی ضرورت

یہ نہ پاس میں ہو تو بیکل رہیںنگے
موبائل موبائل موبائل کرینگے

کیٔ فاںٔدہ ہے ،کیٔ اس سے گھاٹا
کہیں پھول ہے تو ، کہیں ہے یہ کانٹا
خبر کا یہ ذریعہ ، بڑا پرکشش ہے
مگر اس کے اندر تپش ہی تپش ہے
جلا کر نہ رکھ دے کہیں یہ نسل کو
جلا کر نہ رکھ دے یہ ساری فصل کو

یہ ڈبا ، نہ دھبا بنے اس جہاں پر
برا کچھ۔ اثر ہو نہ امن و اماں پر

موبائل سے ہی سارے بچے پڑھینگے
موبائل موبائل موبائل کرینگے
© انجم علی نگری

Wednesday, July 1, 2026
Topic(s) of this poem: nazm
POET'S NOTES ABOUT THE POEM
ये नज़्म मोबाइल के ऊपर लिखी गई है।‌ क्या बड़ा क्या छोटा सब इसके पीछे पड़े हैं
COMMENTS OF THE POEM
READ THIS POEM IN OTHER LANGUAGES
Anjum Alinagari

Anjum Alinagari

Alinagar, Darbhanga
Close
Error Success