میری الفت کا سودا ہو رہا ہے
یہ دل اپنی حقیقت کهو رہا ہے
بتا دو اہل دولت سے یہ جا کر
خدا کے سامنے وہ رو رہا ہے
ابهی تک آج تک اتنا ہوا ہے
جو تها بیدار کل تک سو رہا ہے
چلو خوشیوں کی بارش اب تو ہوگی
کوئی رستے میں کانٹا بو رہا ہے
ذرا سا ہنس لو کهل کر انقلابی
زمانہ غم بہت یہ ڈهو رہا ہے
© انجم علی نگری
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem