میری الفت کا سودا ہو رہا ہے Poem by Anjum Alinagari

میری الفت کا سودا ہو رہا ہے

میری الفت کا سودا ہو رہا ہے
یہ دل اپنی حقیقت کهو رہا ہے

بتا دو اہل دولت سے یہ جا کر
خدا کے سامنے وہ رو رہا ہے

ابهی تک آج تک اتنا ہوا ہے
جو تها بیدار کل تک سو رہا ہے

چلو خوشیوں کی بارش اب تو ہوگی
کوئی رستے میں کانٹا بو رہا ہے

ذرا سا ہنس لو کهل کر انقلابی
زمانہ غم بہت یہ ڈهو رہا ہے
© انجم علی نگری

Friday, July 3, 2026
Topic(s) of this poem: ghazal,urdu,hindi,indian,light poetry,poems
POET'S NOTES ABOUT THE POEM
دل جب اپنی حقیقت کو کھو دیتا ہے تو دل دل نہیں رہ جاتا
COMMENTS OF THE POEM
READ THIS POEM IN OTHER LANGUAGES
Anjum Alinagari

Anjum Alinagari

Alinagar, Darbhanga
Close
Error Success