علم کی روشنی ،علم والوں سے ہے
ڈر اندھیروں کو ایسے چراغوں سے ہے
ہو سکے انکا جتنا کریں احترام
جن کا دنیا و دیں میں ہے ،اعلی مقام
ہر مصیبت کو سہ کر ، صبح اور شام
آپ کے ،میرے حق میں یہ کرتے ہیں کام
ہر طرف یہ چمک، ان اجالوں سے ہے
علم کی روشنی، علم والوں سے ہے
علم۔ والوں کی ہے دین ہم ہیں'۔ جہاں
فخر کرتا ہے ان پہ یہ ہندوستاں
فخر کرتا ہے ان پہ یہ سارا جہاں
بے زبانوں کو دیتے ہیں یہ سب زباں
ان کی الفت سے ہم دور جاںٔیں کہاں
اپنی یاری انھی۔ ہم خیالوں سے ہے
علم کی روشنی، علم والوں سے ہے
© انجم علی نگری
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem