ان کی ضد۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ہم اہل کیچڑ پہ پھول اچھالیں یہ ان کی ضد ہے۔
یا ان کو بڑھ کر گلے لگا لیں یہ ان کی ضد ہے۔
ہمارے پھولوں پہ ان کا حق ہے یہ مان جائیں۔
یا حفظ گلشن سے ہاتھ اٹھا لیں یہ ان کی ضد ہے۔
(جاذب کمالوی)
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem
Khoobsurat zid. Bohot khoob.