مجھے بھول جانے کی عادت بہت ہے
تمہیں کیسے بھولوں محبت بہت ہے
وہ کہنے لگے کیسے ہو آج کل
میں بولا کسی کی عنائت بہت ہے
میرے دشمنوں کی شرارت تو کم ہے
میرے دوستوں کی عداوت بہت ہے
بچی رہ گئ ہے زرا سی کسی میں
یہ تھوڑی سہی پر شرافت بہت ہے
تمہیں دیکھ کر تم پہ کیسی ٹکی ہیں
آنکھوں میں اب بھی شرارت بہت ہے
اترتا ہوا آنکھوں میں موتیا ہے
میرے قطرہ دل میں نکہت بہت ہے
یہ دل ویسے تو کب سے بیمار ہے
مچلتا اب بھی کہ وحشت بہت ہے
کرم کوئ باقی اگر رہ گیا ہے
توکرلیں کہ سہنے کی عادت بہت ہے
نہ جانے یہ کس دل سے کہتاہےاختر
سنا تھا کہ اس میں مرؤت بہت ہے
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem
Peyari ghazal..............................