محبت بہت ہے Poem by Akhtar Jawad

محبت بہت ہے

Rating: 5.0

مجھے بھول جانے کی عادت بہت ہے
تمہیں کیسے بھولوں محبت بہت ہے
وہ کہنے لگے کیسے ہو آج کل
میں بولا کسی کی عنائت بہت ہے
میرے دشمنوں کی شرارت تو کم ہے
میرے دوستوں کی عداوت بہت ہے
بچی رہ گئ ہے زرا سی کسی میں
یہ تھوڑی سہی پر شرافت بہت ہے
تمہیں دیکھ کر تم پہ کیسی ٹکی ہیں
آنکھوں میں اب بھی شرارت بہت ہے
اترتا ہوا آنکھوں میں موتیا ہے
میرے قطرہ دل میں نکہت بہت ہے
یہ دل ویسے تو کب سے بیمار ہے
مچلتا اب بھی کہ وحشت بہت ہے
کرم کوئ باقی اگر رہ گیا ہے
توکرلیں کہ سہنے کی عادت بہت ہے
نہ جانے یہ کس دل سے کہتاہےاختر
سنا تھا کہ اس میں مرؤت بہت ہے

COMMENTS OF THE POEM
Khalida Bano Ali 10 October 2019

Peyari ghazal..............................

0 0 Reply
Khalid Saifullah 09 October 2019

Mahut hi mutasirkun ghazal hay.........................

0 0 Reply
READ THIS POEM IN OTHER LANGUAGES
Akhtar Jawad

Akhtar Jawad

Gorakhpur
Close
Error Success