سڑک
اُس رستے کا نام سڑک
جو پہنچائے منزل تک
اِس پہ گاڑی چلتی ہے
کچی پکی ملتی ہے
اچھی ہو تو سفر آسان
ورنہ سفر میں جاۓ جان
جال بچھا ہے سڑکوں کا
یہ کہنا ہے لڑکوں کا
شہر گاؤں محلے کی
رونق اس سے بہت بڑھی
سڑک کنارے ہے دوکان
تو دھندھا ہے ہر آسان
سڑک پہ چلتے ہیں انسان
تھوک رہے ہیں کھاکر پان
ہندو ہوں یا مسلمان
سڑک ہے سب کا ایک سمان
سائیکل سے اسکول جو جانا
سڑک کے بائیں طرف چلانا
توڑو مت قانون سڑک کا
یاد رہے یہ آپ کو پکا
سڑک پہ دوڑ لگاؤ مت
چلتے پھرتے کھاؤ مت
سڑک پہ جو سناٹا ہے
رات ہوئی بتلاتا ہے
انجم علی نگری
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem