اُس رستے کا نام سڑک Poem by Anjum Alinagari

اُس رستے کا نام سڑک

سڑک
اُس رستے کا نام سڑک
جو پہنچائے منزل تک

اِس پہ گاڑی چلتی ہے
کچی پکی ملتی ہے

اچھی ہو تو سفر آسان
ورنہ سفر میں جاۓ جان

جال بچھا ہے سڑکوں کا
یہ کہنا ہے لڑکوں کا

شہر گاؤں محلے کی
رونق اس سے بہت بڑھی

سڑک کنارے ہے دوکان
تو دھندھا ہے ہر آسان

سڑک پہ چلتے ہیں انسان
تھوک رہے ہیں کھاکر پان

ہندو ہوں یا مسلمان
سڑک ہے سب کا ایک سمان

سائیکل سے اسکول جو جانا
سڑک کے بائیں طرف چلانا

توڑو مت قانون سڑک کا
یاد رہے یہ آپ کو پکا

سڑک پہ دوڑ لگاؤ مت
چلتے پھرتے کھاؤ مت

سڑک پہ جو سناٹا ہے
رات ہوئی بتلاتا ہے

انجم علی نگری

Wednesday, July 1, 2026
Topic(s) of this poem: nazm,urdu
POET'S NOTES ABOUT THE POEM
اس نظم میں سڑک کی خوبیوں کو بیان کیا گیا ہے
COMMENTS OF THE POEM
READ THIS POEM IN OTHER LANGUAGES
Anjum Alinagari

Anjum Alinagari

Alinagar, Darbhanga
Close
Error Success