پانی
پانی کھانے پینے میں
پانی آنکھ ، پسینے میں
جھیل ندی سمندر میں
پانی جسم کے اندر میں
پانی پیاس بجھاتا ہے
گھر کے کام بھی آتا ہے
پانی مچھلی کا ہے گھر
پانی سے ہے سبز شجر
بہتا اڑتا گرتا ہے
کئی روپ میں ملتا ہے
بارش پانی کی ہے جان
جس کی راہ تکے کسان
آتا ہے جب بھی سیلاب
دل ہو جاتا ہے بیتاب
پانی رب کی نعمت ہے
ہر مخلوق کی چاہت ہے
بچوں سے فریاد کریں
پانی نہ برباد کریں
زم زم ہو یا گنگا جل
جل سے آج ہے جل سے کل
© انجم علی نگری
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem