کجھ بھول ہوئ تم سے کجھ بھول ہوئ ھم سے
دونو سے خوشی روٹھی نڈھال ہوۓ غم سے
آنکھیں تو میری بھیگی رھتی ہیں اسی دن سے
رخسار تمہارے کیؤں اب دکھنے لگے نم سے
جب کوئ نہیں ہوتادن رات برستے ہیں
شاید کوئ آیا ہے بادل ہیں گۓ تھم سے
جھونکا ہے ہواکاگر پھر کیسی یہ خوشبو ہے
مانوس ہیں ہم جس سے مانوس ہے جو ہم سے
دروازے کا پٹ مجھکوتھوڑا سا کھلا لگتا ہے
ان کھڑکی کے پردوں میں آتے ہیں نظر خم سے
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem
کجھ بھول ہوئ تم سے کجھ بھول ہوئ ھم سے" ،" دونو سے خوشی روٹھی نڈھال ہوۓ غم سے