زندگی نے تو گل کھلاۓ بہت دیکھیں اب موت کیا کھلاتی ہے
زندگی نے سکھا دیۓ ہیں چلن دیکھیۓ موت کیا سکھاتی ہے
موت سے شاید اور مل جاۓ یاں تو غم بھی ملے تو کم ہی ملے
موت ایک دائمی سکوں کا سفر آ گئ تو کہیں نہ جاتی ہے
موت کو دیکھ کر سہمتی ہے زندگی کے لیۓ تڑپتی ہے
جو گیا آ نہ پایا دوبارہ دنیا قصے عجب سناتی ہے
آزمائش ہے یا نمائش ہے جو بھی ہے یہ انا ہے قدرت کی
اسکے ہر نگ ہی نرالے ہیں روتے روتے بھی مسکراتی ہے
ہے یہ آزاد نظم قدرت کی قافیہ ہے نہیں مگر ہے ردیف
درد لزت ہو یا ہو لزت درد زندگی پھربھی گنگناتی ہے
خوب صورت ہو یا ہوبد صورت پرکشش ہے تجربہ جینے کا
کسلئے تو نے کی شراب کشیداس میں کیا گھول کر ملاتی ہے
زہر بھی ہے یہی، یہی تریاق ہاۓ یہ معرکے محبت کے
مارتی بھی یہی ہے پیاسا ہمیں پیاس لیکن یہی بجھاتی ہے
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem