جب مہمند میں پہاڑ سرکتے ہیں
سنگ مرمر سر پر گرتا ہے
میں سوچتا ہوں میرے گھر کے ڈراينگ روم میں
سنگ مرمر میںڈھلی آرائش ایک
جو شايد ایک مسجد کا ماڈل ہے
اس ماڈل میں حسن بھی ہے
اسمیں کتنی رعنائ ہے
پھر خبریں آتی ہیں مہمند سے
کتنے جوان زخمی ہوۓ
کتنے بچے یتیم ہوۓ
عورتیں کتنی بیوا ہوئں
کتنے بوڑھوں کا اکلوتا سہارہ
آج انکو تنہا چھوڑ گیا
میں اس ماڈل سے پوچھتا ہوں
تجھ میں کتنی تنہائ ہے؟
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem