سنگ مرمر کی تنہائ Poem by Akhtar Jawad

سنگ مرمر کی تنہائ

جب مہمند میں پہاڑ سرکتے ہیں
سنگ مرمر سر پر گرتا ہے
میں سوچتا ہوں میرے گھر کے ڈراينگ روم میں
سنگ مرمر میںڈھلی آرائش ایک
جو شايد ایک مسجد کا ماڈل ہے
اس ماڈل میں حسن بھی ہے
اسمیں کتنی رعنائ ہے
پھر خبریں آتی ہیں مہمند سے
کتنے جوان زخمی ہوۓ
کتنے بچے یتیم ہوۓ
عورتیں کتنی بیوا ہوئں
کتنے بوڑھوں کا اکلوتا سہارہ
آج انکو تنہا چھوڑ گیا
میں اس ماڈل سے پوچھتا ہوں
تجھ میں کتنی تنہائ ہے؟

Tuesday, September 22, 2020
Topic(s) of this poem: solitude
COMMENTS OF THE POEM
READ THIS POEM IN OTHER LANGUAGES
Close
Error Success