خفا ہو تم Poem by Akhtar Jawad

خفا ہو تم

چھوٹی سی ایک بھول پہ اتنے خفا ہو تم
اے دوست آدمی ہو یا میرے خدا ہو تم
یوں اجنبی نہ بن کے ملو لاؤ اپنا ہاتھ
ہونٹوں سے اپنے لکھوں میرے آشنا ہو تم
پگھلا دے بتھروں کووہ آنسو میں لایا تھا
کہتے ہیں لوگ سچ کہ بڑے بیوفا ہو تم
اب کیا کہیں کہ تم سے محبت ہے بے پناہ
ہم کیا کریں کہ اب بھی بڑے دلربا ہو تم
ایک آرزو جو حسرت ناکام بن گئ
مانگی ہوئ میری وہی پہلی دعا ہو تم
وہ دکھ جو لے اڑا ہےسکھ کا رنگ روپ
وہ درد بے حساب کہ جسکی دوا ہو تم
جس نے چمن میں پھول کھلاۓ مگر یہ دل
رو رو کے کہ رہا ہے یہ کیسی ہوا ہو تم

Thursday, December 3, 2020
Topic(s) of this poem: love
COMMENTS OF THE POEM
Jagdish Singh Ramána 07 December 2020

Bahut khoob sir. Ghazal e umdah k liye dheroñ daad!

0 0 Reply
READ THIS POEM IN OTHER LANGUAGES
Close
Error Success