چھوٹی سی ایک بھول پہ اتنے خفا ہو تم
اے دوست آدمی ہو یا میرے خدا ہو تم
یوں اجنبی نہ بن کے ملو لاؤ اپنا ہاتھ
ہونٹوں سے اپنے لکھوں میرے آشنا ہو تم
پگھلا دے بتھروں کووہ آنسو میں لایا تھا
کہتے ہیں لوگ سچ کہ بڑے بیوفا ہو تم
اب کیا کہیں کہ تم سے محبت ہے بے پناہ
ہم کیا کریں کہ اب بھی بڑے دلربا ہو تم
ایک آرزو جو حسرت ناکام بن گئ
مانگی ہوئ میری وہی پہلی دعا ہو تم
وہ دکھ جو لے اڑا ہےسکھ کا رنگ روپ
وہ درد بے حساب کہ جسکی دوا ہو تم
جس نے چمن میں پھول کھلاۓ مگر یہ دل
رو رو کے کہ رہا ہے یہ کیسی ہوا ہو تم
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem
Bahut khoob sir. Ghazal e umdah k liye dheroñ daad!