کتنا حسیں وصال
معصوم بن کے پوچھو نہ کسنے کیا یہ حال
میں خوشہوںپھر بھی آ گیا تمکو میرا خیال
اچھے لگے جو تمنے کیا مجھسے یہ سوال
اچھے تو تھے سدا کے سوا ہو گیا جمال
ہم سا دکھی ملے تو دکھائوں اسے تمہیں
اپناسا کوئ دیکھوں تو دوں بھی کوئ مثال
مجھ بھولے بسرے شخصپہ کیسے ہوا کرم
وہ شخص ہنس کے ٹال گیا میرا یہ سوال
اب آ گئے ہو آجتو شکوے بھی کیا کروں
تم بن گزر گئےمیرے کتنے ہی ماہ و سال
یادیں سمیٹوں ماضی کی یا باتیں میں کروں
میں چپ سا ہوں کہ تکو کہیں ہو نہ کچھ ملال
تم ہو نہ ہو میں تنہا کبھی بھی نہیں رھا
کتنا عجیب ہجر تھا کتنا حسیں وصال
Khoobsoorat aor peyari ghazal...........................................
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem
I can not understand Urdu but I sense it must be a very good poem as penned by a master! Little abstract in poet's note area could have increased the visibility of the piece of work!